نئی دہلی،11فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام آدمی سے منسلک مسائل اورترقی کے ایجنڈے کے ساتھ سیاست میں آئے اروند کیجریوال مسلسل دوسری بارزبردست اکثریت کے ساتھ دہلی کے اقتدار میں واپس آئے ہیں اور دہلی کے وزیراعلیٰ کے طور پر یہ ان کا تیسرا دورہوگا۔
دہلی الیکشن بی جے پی نے شاہین باغ،جامعہ،سی اے اے کی حمایت،مظاہرین اورطلبہ کی مخالفت،نفرت آمیزبیانات کے ساتھ لڑاجس کوعوام نے مستردکردیااورکجریوال کے ترقیاتی ایجنڈے پریقین کرتے ہوئے انھیں کامیاب بنایااورپھرگزشتہ الیکشن کی طرح تقریباََپوری دہلی میں جھاڑونے اپوزیشن کاصفایاکیا۔
دہلی اسمبلی کے گزشتہ انتخابات (2015) میں عام آدمی پارٹی (آپ)کو کل 70 میں 67 سیٹوں پر جیت حاصل ہوئی تھی۔کیجریوال سال 2013 میں پہلی بار وزیر اعلی بنے تھے اور اس انتخاب میں آپ نے صرف 28 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی اور انہوں نے کانگریس کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تھی۔تاہم، ان کی یہ حکومت صرف 49 دنوں تک ہی چل پائی تھی۔کیجریوال کی قیادت والی آپ نے2020 کے اسمبلی انتخابات میں دہلی کی 70 سیٹوں میں 62 سیٹوں پر جیت حاصل کی جبکہ بی جے پی نے آٹھ سیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہے۔
کانگریس گزشتہ الیکشن کی طرح اس باربھی صفررہی۔یہ الیکشن بی جے پی بنام عام آدمی پارٹی ہی رہااورنتائج بھی اسی لحاظ سے آئے۔بی جے پی نے پوری مضبوطی کے ساتھ سارے فرقہ وارنہ ہتکھنڈے اپنائے۔
وزیراعظم اوروزیرداخلہ کے ساتھ مرکزی کابینہ،کئی وزرائے اعلیٰ اوردوسوسے زائدممبران پارلیمنٹ کجریوال کے مقابلے اتارے گئے،اشتعال انگیزی اورووٹوں کے ارتکازکی سیاست جم کرکی گئی لیکن دہلی کی عوام نے ترقی پرووٹ دیا۔نوسال پہلے 2011 میں کیجریوال انا ہزارے کی قیادت میں چلی لوک پال تحریک کے دوران سیاست میں آئے تھے۔اس کے بعد جلد ہی انہوں نے عام آدمی پارٹی کے نام سے ایک سیاسی پارٹی بنا لی۔عام آدمی پارٹی کے قیام کے بعد دہلی کی سیاست میں ایک نیا آپشن سامنے آیا. تاہم، کیجریوال کی مہتواکانکن آپ کو ایک قومی پارٹی بنانے کی تھی لیکن اس میں انہیں زیادہ کامیابی نہیں ملی۔
کیجریوال نے 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار نریندر مودی کو چیلنج دیتے ہوئے ان کے خلاف وارانسی سیٹ سے الیکشن لڑا۔ لیکن وہ ہار گئے. انہوں نے 2017 میں پنجاب اور گوا اسمبلی انتخابات میں بھی اپنی پارٹی کی رسائی بنانے کی کوشش کی۔پنجاب میں کسی حد تک انہیں کامیابی ملی، لیکن گوا میں انہیں کامیابی نہیں ملی۔کیجریوال 2013 میں پہلی بار دہلی کے وزیراعلیٰ بنے اور پھر وہ صرف 49 دنوں تک اس عہدے پر رہے تھے لیکن 2015 میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی نے دہلی کی 70 سیٹوں میں سے 67 سیٹوں پر کرور جیت درج کی۔
کیجریوال کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلے سخت رویہ کے ساتھ پارٹی کو چلایا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے غصے پر قابو رکھنا سیکھ لیا۔اس انتخاب میں دہلی میں 200 یونٹ تک مفت بجلی، 20 ہزار لیٹر تک مفت پانی، ڈی ٹی سی کی بسوں میں خواتین کیل یے مفت سفر اور 1.4 لاکھ سی سی ٹی وی کیمرے ان کے اہم انتخابی مسائل رہے۔اپنی انتخابی مہم کے دوران کیجریوال نے کئی بار بی جے پی پر نشانہ لگاتے ہوئے پوچھا تھا کہ ان کا وزیراعلیٰ کے عہدے کا امیدوار کون ہے۔تاہم، انہوں نے احتیاط برتتے ہوئے شاہین باغ میں چل رہے سی اے اے مخالف مظاہروں پر واضح طور پر کچھ نہیں کہا۔بی جے پی کے رہنماؤں نے انہیں دہشت گرد کہہ کر پکارا لیکن کیجریوال نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ووٹر اگر ایسا سمجھتے ہیں تو وہ بی جے پی کی حمایت کریں اور اگر وہ انہیں دہلی کا بیٹا سمجھتے ہیں تو ان کی پارٹی کو ووٹ دیں۔مفلرمین کے طور پر جانے جانے والے کیجریوال کی پیدائش ہریانہ کے حصار میں 16 اگست، 1968 کو گوبند رام کیجریوال اور گیتا دیوی کے یہاں ہوئی۔
کیجریوال نے منگل کو جیت کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کی بیوی سنیتا کی سالگرہ ہے۔حق اطلاعات (آر ٹی آئی) قانون نافذ کرانے کی سمت میں کی جانے والی کوششوں کو لے کر میگسیسے ایوارڈ سے نوازے جانے والے کیجریوال اس ٹیم انا کے رکن تھے، جس میں ملک کی پہلی آئی پی ایس افسر اورپانڈیچیری کی لیفٹیننٹ گورنر کرن بیدی اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن شامل تھے۔کیجریوال نے آئی آئی ٹی کھڑگپور سے میکینکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی تھی۔